• Harry Derbitsky

Ep.39-URDU--Addiction Department

Updated: Oct 15



Anam Arif from Pakistan shares in PAKISTANI URDU as an Addiction Mentor, Back to the Fitrah Mentoring Academy. Editing by Munazza Khan. ANAM ARIF is a departmental Addiction Mentor and the speaker of this audio. She briefly shares her story of being addicted to pharmaceutical drugs for 5 years. This talk also describes the four milestones the Addiction Department looks for regarding our clients.


URDU TRANSLATION (English translation below)


انعم عارف جنکا تعلق پاکستان سے ہے،اردو میں گفتگو کر رہی ہیں۔ مجھے بیک ٹوو دی فطرہ مینٹورنگ اکیڈمی کے ایڈکشن ڈیپارٹمنٹ کے نشے سے بحالی کے سرپرستوں میں سے ایک ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ مسلمانوں کا محکمہ شمالی امریکہ، افریقہ، یورپ، آسٹریلیا اور تمام عربی ممالک کا احاطہ کرتا ہے اور اس میں ایڈکشن مینٹورز اپنے کلائنٹس کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔


یہ مسلم شعبہ کمیونٹی میں ایسے نتائج حاصل کر رہا ہے جو مسلم دنیا میں کہیں اور نظر نہیں آتے۔اسلامی 3 اصولوں کی نشے سے متعلق سیریز دیکھنے کیلئے آپ نیچے دی گئی ویب سائٹ پر جائیں اور وہاں دیے گئے ایڈکشن ڈیپارٹمنٹ کا بٹن دبائیں۔


https://www.backtothefitrahacademy.com/addiction


اصول ایک روحانی نفسیات اور صحت کا وہ نمونہ ہے جو اسلام میں بیان کردہ 3 احکامات کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔


بیک ٹو دی فطرہ مینٹورنگ اکیڈمی ایڈکشن ڈیپارٹمنٹ کے ٹریننگ ڈائریکٹر ہیری ڈربٹسکی جو اے سی ٹی ٹریننگ انکارپوریٹڈ کے صدر اور نشے سے متعلق 2 کامیاب کتابوں کے مصنف بھی ہیں جنکی پہلی کتاب کا عنوان ہے ایولوشن آف ایڈکشن ریکوری جس کا ترجمہ میں نے خود اردوزبان میں کیا ہے۔ ایک ماہر نفسیات، کوچ، مصنف،اسپیکراور اوپرا شو میں شامل ہونے والی ڈاکٹر ایمی جانسن کی نشے سے بحالی کے موضوع پر ان کی دو کتابوں کے بارے میں ایک گواہی یہ ہے



"جیسا کہ ان کی کتابوں میں کہا گیا ہے، جب ہم نشے کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش سے ہٹ کر دکھی لوگوں کی روح سے بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو شعور بڑھتا ہے اور ناقابل یقین تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ میں نے واضح طور پر اپنے کلائنٹس کے ساتھ یہ سچ ہوتا ہوا دیکھا ہے، اور میں جانتی ہوں کہ یہ دوسروں کے لئےبھی سچ ثابت ہو رہا ہے جو ان اصولوں کا اشتراک کرتے ہیں جن کی طرف نشہ سے بحالی کا محکمہ اشارہ کرتا ہے۔ 'ایولوشن آف ایڈکشن ریکوری' اور "ایوولوشن آف ایڈکشن ریکوری ری اوپنڈ' اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ نشہ کے علاج میں مکمل پیراڈائم کی تبدیلی کیا ہوسکتی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہ ہم ذہنی صحت کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔


یہ میرا یعنی انعم کا تجربہ ہے جو میں آپکے ساتھ پیار سے بات کر رہی ہوں - "میں نے خود منفی جذبات اور عادی ہو جانے والی حالت کا تجربہ کیا ہے جب میں 'بینزوس' پر تھی تقریبا پانچ سال میں یہ نسخہ والی دوا لیتی رہی اور دیکھ نہیں سکتی تھی کہ آخر کار میرے ذہن میں ایک خیال آیا اور میں نے اپنے آپ سے بات کی "اب میں اللہ پر بھروسہ کر رہی ہوں اور پریشانی ، ڈپریشن کی تمام ادویات چھوڑ رہی ہوں " یہ میری زندگی کا وہ لمحہ تھا جب شفاء کا آغاز ہوا صرف ایک سوچ سے۔ میں اسے شفاء کا ایک خیال کہتی ہوں۔


ہمارا طریقہ کار بہت بہت سادہ ہے۔ ہم اپنے کلائنٹس کو شفاء یابی کے دروازے تک پہنچانے میں مدد، حمایت اور رہنمائی کریں گے، ہم اپنے کلائنٹس کیلئے بھی دروازہ کھولیں گے لیکن انہیں خود اس راستہ سے چل کر آنا ہو گا۔ ہم انکے لیے یہ نہیں کر سکتے اور جب وہ خود کریں گے تب وہ وہی تجربہ کریں گے جسکا تجربہ میں نے کیا۔


ایک سوچ شفایابی کیطرف


کتاب 2 کا ایک اقتباس یہ ہے—


کسی علت کو سمجھنے کے چار مراحل


وہ چار سنگ میل کيا ہیں جو ہمارے ایڈکشن ڈیپارٹمنٹ کے ایڈکشن مینٹورز کلائنٹس میں پیش رفت اور تبدیلی کے بارے میں تلاش کرتے ہیں


پہلا سنگ میل– امید


نشہ سے شفا یاب ہونے کے لئے کبھی کوئی پیش رفت امید کے بغیر نہیں ہوگی ۔ میں نے اکثر کہا ہے کہ میں ایک کم فہم کلائنٹ کو سکھانا پسند کروں گا جو پرامید ہے، بجائے اس کے کہ ایک اعلی فہم کلائنٹ جو امید کے بغیر رہتا ہے۔


امید ابدی ہے کیونکہ یہ ہماری کائنات اور حقیقت کے لامحدود امکانات کے لئے کسی کے ذہن کو کھولتی ہے۔ ہم سب لامحدود صلاحیت کے مالک ہیں اور امید کے ساتھ یہ صلاحیت قابل حصول ہے جبکہ اس کے بغیر ہماری صلاحیتوں کو جاری کرنے کا امکان تصور کرنا، یقین کرنا یا پہنچنا ناممکن ہے۔


امید رجائیت کیطرف لےجانے کا دروازہ ہے۔ سڈنی بینکس کا کہنا ہے، جو ہیری کے استاد اور 3 اصولوں کے موجد ہیں، "امید پرستی ایک روحانی خوبی ہے اور روشنی کی طرف رہنمائی کرتی ہے جو آپ کو آپ کی خوشی کی طرف لے جائے گی۔" جب امید رجائيت کی مثبت توانائی کو جاری کرتی ہے تو ایک نشے کے عادی کو اچانک احساس ہوتا ہے کہ امید ایک روحانی طاقت ہے جو ایمان کی طرف لے جاتی ہے- اندھا ایمان نہیں بلکہ اپنی ذات پر ایمان ہے جو اللہ پر ایمان کے برابر ہے۔


لہٰذا اسی وجہ سے امید ایمان کا دروازہ بھی ہے۔ ایمان اعتماد اور حکمت کا باعث بنتا ہے۔ یہ شفا کا راستہ ہے۔


دوسرا سنگ میل – اچھے احساسات


نشہ کی عادت کے حامل تمام کلائنٹس جو شروع میں ایڈکشن ڈیپارٹمنٹ سے مدد کے لئے آتے ہیں، اداس اور سنجیدہ ہوتے ہیں۔ وہ ہارنے والوں کی طرح محسوس کرتے ہیں۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپنی خواہشات کا شکار ہیں، جو ان پر قابو پاتے ہیں اور ان پر حاوی ہوتے ہیں۔ وہ بدقسمتی کو راغب کرتے ہیں، جیسے گرفتار ہونا، اپنا سیل فون، بٹوہ یا وقار کھونا۔ ان کی عزت نفس کم ہوتی ہے۔ اور اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ قابو سے باہر ہیں، اپنی بری عادت اور خواہشات کے دائرے میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔


یہ بیرونی دنیا کی مدد کی غير موثر کوششوں سے بڑھتا ہے جنکا مقصد مدد کرنا ہوتا ہے۔ والدین، دوست اور دیگر لوگ اکثر اس شخص کوحقارت سے ديکھتے ہیں جو نشے کا عادی ہے اسکے لیے اور بھی زیادہ شرم کا باعث بنتا ہے۔ وہ جان بوجھ کر نشہ یا شراب نوشی میں نہیں مبتلا ہوۓ۔


یہ ان کی زندگی ہے، اور وہ اسے پیچھے چھوڑنا پسند کریں گے. 3 اصولوں کی روحانی نوعیت کے ساتھ، اچھے احساسات کا حصول کافی آسان ہے۔ اکثر کلائنٹ کی حکمت اور خوبصورتی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، ایک بار محسوس کرنے سے ان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ یہ ایک احساس ہے کہ وہ اکثر طویل عرصے سے بھول گئے ہیں۔ ہنسی اور مزاح کا احساس اکثر اس کی پیروی کرتا ہے۔


اچھے احساسات = اپنے گھر ہونا


شفا یابی کے عمل کے لئے اچھے احساسات ضروری ہیں، کیونکہ وہ دروازہ کھولنے والے ہیں۔ بعض اوقات، صرف اچھے احساسات ہی کسی شخص کو اندرونی خوشی کی طرف واپس رہنمائی کرنے کے لئے کافی ہوتے ہيں۔ اس معاملے میں کلائنٹ دنیا کی کسی بھی چیز سے زیادہ اچھے جذبات کو اہمیت دیتا ہے خاص طور پر کسی مادے کے عادی ہونے کی ضرورت سے زيادہ۔


ہماری نشے سے بحالی کے تمام جوابات روحانی یا مثبت احساسات میں ہیں۔ تاہم عام طور پرتيسرے سنگ میل کی ضرورت ہوتی ہے۔


تیسرا سنگ میل – تفہیم


کئی بار، ہمارے کلائنٹ اپنے ذہن پر بھاری پریشانیوں کے ساتھ پہنچتے ہیں۔ ایک بار جب وہ شفا بخش بصیرت کو محسوس کرتے ہیں تو وہ اکثر بیس سال چھوٹے نظر آتے ہیں۔ ان کے ذاتی ذہن خاموش ہو چکے ہوتے ہیں تب وہ شفا کی بلند روحانی توانائی کا تجربہ کرتے ہیں۔


تاہم، ایک عجیب بات اکثر ہوتی ہے. وہ شفا بخش توانائی کے تجربے سے باہر آتے ہیں اور ان ہی مسائل کے بارے میں بات کرنا شروع کردیتے ہیں جو انہوں نے شفا شروع ہونے سے پہلے محسوس کیے تھے۔ مختصر بیس منٹ میں، وہ شفا کا احساس کھو چکے ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے "کیا ہوا" نہیں دیکھا۔ انہوں نے شفا بخش توانائی محسوس کی لیکن روح کے کام کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں کوئی سمجھ حاصل نہیں کی۔


یہ اکثر نشہ کی عادت ہو جانے کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔ روحانی احساس کا تجربہ کیا جاتا ہے، لیکن چونکہ نشے کے عادی شخص نے نہیں دیکھا کہ کیا ہوا، اس لئے انہوں نے ذہن (روح) کیا ہے یا سوچ کے کردار سے اس کے تعلق کو سراہا نہیں اور نہ ہی اس کی گہری سمجھ حاصل کی۔


اپنی خوبصورتی کواندرونی حکمت تک رسائی کرتے ہوئےاندرکی خوبصورتی کو دیکھنا۔


وضاحت کا تجربہ ضرور ہونا چاہئے۔ اس گہری تفہیم کو "شعور کی سطح کو بلند کرنا" کہا جاتا ہے۔ ہم روحانیت اور نفسیات کی دو دنیاوں کو الگ الگ ظاہر کرنے کے بجائے روحانی نفسیات کی تعلیم دیتے ہیں۔ اس یکجہتی کا تجربہ کرنا یا سمجھنا نشے کے عادی افراد کو ظاہر کرتا ہے کہ صرف ایک ہی چیز غلط ہے وہ مادہ نہیں ہے، بلکہ صرف سوچ کا غیر دانشمندانہ استعمال ہے، جو کلائنٹس کو قیدی بنا کر رکھتا ہے۔


ایک بار جب نفسیات کو روحانیت سے الگ کرنے کے جھوٹ کو دیکھ ليا جائے تو کلائنٹ ایک مختلف راستے پر چل سکتا ہے۔ آپ دیکھیں، اگر کسی شخص کو شادی کے مسائل ہیں، موڈ کے مسائل ہیں یا وہ نشے کا عادی ہے تو یہ کوئی مختلف نہیں ہے۔ یہ گھناؤنا چکر ایک ہی ہے - غیر دانشمندانہ خیالات غیر دانشمندانہ احساسات کا باعث بنتے ہیں جو غیر دانشمندانہ طرز عمل اختیار کرتے ہیں جو کشيدگی کا باعث بنتے ہيں جس سے نجات پانے کی ضرورت ہے۔ بہترین دوا سوچ کو تبدیل کرنا ہے۔


مندرجہ بالا نقطہ نظر کا سب سے دلچسپ پہلو یہ معلوم کرنا ہے کہ ہم اپنے کلائنٹ میں کیا تلاش کر رہے ہیں۔ ہم اس شخص کی نااہلی کا جائزہ نہیں لے رہے ہیں کہ وہ دوبارہ نشے ميں مبتلا ہونے سے بچ جاۓ يا پھر ناپختہ خیالات پر قابو نہیں پا رہے یا جب وہ سو رہے ہوتے ہیں تو ان کے خیالات خوفناک کیوں ہوتے ہیں۔ ہم صرف اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ کلائنٹ کس طرح خوشی اور اطمینان میں بڑھ رہا ہے۔ یہ مثبت احساس "گھر ہونے" کا پورٹل کھولتا ہے۔


جیسے جیسے ایک کلائنٹ شعور کی سطح میں بڑھتا ہے، ہماری گفتگو فطری طور پر کلائنٹ کے گرد گھومتی ہے جو اپنی دانش مندی کا تجربہ محسوس کرتے ہے اور اس کا اظہار کرتے ہيں۔ جیسے وہ اظہار کرنے لگتے ہیں، رجائيت بڑھتی ہے اور ان کے چہروں پر مسکراہٹیں بڑھتی ہیں۔ انسانی ذہن کس طرح کام کرتا ہے اس کی تفہیم بڑھتی ہے۔ شفا کی تفہیم بڑھتی ہے۔ یہ درست ہے کہ والدین، دوست اور دیگر نشے کے عادی افراد اسے نہیں دیکھ سکتے لیکن یہ سفر کا حصہ ہے کیونکہ کلائنٹ اسے دیکھے گا جس سے حقیقی شفا حاصل ہوتی ہے اور نشے کی عادت بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔


چوتھا سنگ میل 4 – اندر سے باہر تک کا عزم


عجیب بات یہ ہے کہ اللہ، خدا یا آفاقی ذہن کلائنٹ سے وابستگی یا ارادے کا تقاضا کرتے ہيں تاکہ کلائنٹ کو پوری طرح احساس ہو سکے کہ وہ شفا یابی کے عمل کا حصہ ہیں۔ کلائنٹ ایک ایسے مرحلے پر پہنچتا ہے جہاں وہ پوری طرح سمجھتے ہیں، اندر سے باہر کے نقطہ نظر سے، جہاں شفا شروع ہوتی ہے اور جہاں سے تجربہ آتا ہے۔ وہ آگاہی کے ذریعے مکمل طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ وہ اب بدصورت احساس نہیں چاہتے جبکہ اسے قبول کرنا ان کے ماضی کا حصہ ہے۔


اب وقت آگیا ہے کہ ایک ایسی دنیا میں زندگی گزاری جائے جس میں ان کی زندگی پر حکمرانی کرنے والی بری عادت نہ ہو۔ وہ آخری سنگ میل پر پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے “انتخاب” کی آزادی کے راز سے پردہ اٹھایا ہے۔


ہمارے نشے سے بحالی کے ادارے کو موقع ديں کہ وہ آپکو نشے سے بحالی کے سادہ طریقے سیکھاۓ۔



TRANSLATION INTO ENGLISH


Anam Arif speaking in Urdu from Pakistan. I am honored to be one of the Addiction Mentors from the Addiction Department of Back to the Fitrah Mentoring Academy. This Muslim department covers countries from North America, Africa, Europe, Australia, and all Arabic countries, and features Addiction Mentors servicing its clients.


This department is achieving results in the Muslim community that are unseen elsewhere in the Muslim world. Go to the website to see the Islamic--3 Principles Addiction services. The 3 Principles is a spiritual psychology, a health model and is in harmony with the Truth as expressed in Islam.


The Training Director to Back to the Fitrah Mentoring Academy Addiction Department is Harry Derbitsky, who is also President of ACT Training Inc. and author of 2 successful books in Addiction, including the first one titled EVOLUTION OF ADDICTION RECOVERY which has been translated into Urdu by myself. Here is one testimony regarding his two books on the subject of Addiction by Dr. Amy Johnson, PhD, a psychologist, coach, author, and speaker, including being on the Oprah Winfrey show.

“As is stated in his books, when we move from trying to fix the ‘problem’ of addiction, to speaking to the spirit in those who are suffering, consciousness rises, and incredible transformation often takes place. I have unequivocally seen this to be true with my own clients, and I know it is true for others who share these Principles that the Addiction department points toward. ‘Evolution of Addiction Recovery’ and “Evolution of Addiction Recovery Re-opened’ points to what can be a complete paradigm shift in treating addiction, as well as in how we view mental health.”


This is my experience as Anam that I speak lovingly to you – “I experienced a negative emotional and addicted state by my own self when I was on "benzo's. For around 5 years, I was into taking this prescription drug and couldn't see how to get out from that. At last, a THOUGHT came in my mind "Now I am putting my trust in Allah and leaving all the medications for Anxiety and Depression." That was the moment in my life when the healing started by having just 1 thought. I call it the One Thought of Healing.”


Our approach is simple. We will help, support, guide our clients to the doorway of healing, we will even open the door for our clients, but THEY MUST WALK THROUGH IT THEMSELVES. We cannot do this for them, and when they do, they will experience what I have experienced—One Thought to Healing.


Here is an excerpt from Book 2—


4-Stage Approach to Addiction


What are the four milestones the Addiction Department and its Addiction Mentors look for regarding progress and transformation in our clients?


Milestone 1 – Hope

Without hope, there will never be any progress to heal from addiction. I have often stated that I would rather teach a low understanding client who is hopeful, rather than a high understanding client who lives without hope.

Hope is eternal because it opens one’s mind to the infinite possibilities of our universe and reality. We all possess unlimited potential, and with hope, this potential is achievable, while without it, the possibility of releasing our potential is impossible to envision, believe or reach.

Hope is the doorway to optimism. Sydney Banks, who is Harry’s teacher and the originator of the 3 Principles stated, “Optimism is a spiritual quality and a guiding light that will lead you to your happiness.” When hope releases the positive energy of optimism, an addict suddenly realizes that hope is a spiritual power leading to faith—not blind faith, but faith in one’s self, which is the same as faith in Allah.

For this reason, therefore, hope is also the doorway to faith. Faith leads to confidence and wisdom. This is the pathway to healing.


Milestone 2 – Good Feelings

All clients with addiction habits, who initially come for the Addiction Department’s help, are gloomy and serious. They feel like losers. They feel they are victims of their urges, which control and dominate them. They attract bad luck, such as being arrested, losing their cellphone, wallet, or dignity. They have low self-esteem. And worse yet, they feel they are out of control, living in a losing spiral of repeating their bad habit and urges.

This is compounded by the outside world’s unhelpful efforts to offer support. Parents, friends and others often look down on the person who is addicted as pathetic which leads to even more shame. They are not caught in addiction or alcoholism on purpose.

This is their life, and they would love to leave it behind. With the spiritual nature of the 3 Principles, good feelings are quite easy to achieve. Once felt, often by pointing to the wisdom and beauty of the client, a smile spreads across their face. It is a feeling that they often have long forgotten. Laughter and a sense of humor often follow.

Being home = Good feelings

Good feelings are essential to the healing process, as they are the door opener. Sometimes, good feelings alone are enough to guide a person back inside. In this case, the client values the good feelings more than anything else in the world, especially more than the need to be addicted to a substance.

All answers to our addiction lie in spiritual or positive feelings. However, generally milestone 3 is required.


Milestone 3 – Understanding

Many times, our clients arrive with heavy troubles on their mind. Once they experience a healing insight, they often look twenty years younger. Their personal minds have quieted, and they have experienced the uplifting spiritual energy of healing.

However, a strange thing often happens. They come out of the experience of healing energy and commence to talk about the same problems they had experienced before the healing started. In a short twenty minutes, they have lost the healing feeling because they did not SEE “what happened.”. They felt the healing energy but did not gain any understanding of how Spirit works.

This is often similar with addiction. The spiritual feeling is experienced, but because the addicted person did not SEE what happened, they did not appreciate or gain a deeper understanding of what Mind (Spirit) is or its connection to the role of Thought.


Seeing your beauty = Accessing your inner wisdom


The clarity must be experienced. This deeper understanding is called “raising the level of consciousness.” We teach a spiritual psychology, rather than pretending the two worlds of spirituality and psychology are separate. Experiencing or understanding this oneness demonstrates to the addicted that the only thing wrong is not the substance, but simply the unwise use of Thought, which holds clients’ prisoner.

Once the falseness of separating psychology from spirituality is seen for what it is, the client can follow a different path. You see, it is no different if a person has marriage problems, mood problems or is addicted. The vicious cycle is the same – unwise thoughts lead to unwise feelings which lead to unwise behaviour which results in a stressful scenario that needs to be relieved. The best medicine is to Change Thought.

One of the most interesting aspects of the above approach is to ascertain what are we looking for in our clients. We are not evaluating the person’s inability to avoid relapse, overcome immature ideas or why they have nightmarish thoughts when they are sleeping. We simply evaluate how the client is growing in happiness and contentment. This positive feeling opens the portal of “being home.”

As a client grows in levels of consciousness, our conversations naturally revolve around the client experiencing and expressing their own wisdom. As they do, optimism rises and the smiles on their faces grow. Understanding of how the human mind works grows. Understanding of healing grows. True, the parents, friends, and other addicts may not see it, but that is part of the journey because the client will see it, which leads to true healing and leaving the addiction far behind.


Milestone 4 – Inside-Out Commitment

Strange as it may seem, Allah, God or Universal Mind requires a commitment or intent from the client so that the client can fully realize that they are a part of the healing process. The client reaches a stage where they fully understand, from an inside-out perspective, where the healing starts and where experience comes from. They fully recognize, via Insight, that they do not want the ugly feeling anymore while accepting this is part of their past.

NOW, it is time to live in a world without the bad habit ruling their life. They have reached the final milestone and have uncovered the secret to freedom of CHOICE.


Let our Addiction Department teach you the simplicity of healing.

83 views0 comments

Recent Posts

See All